|
ریلی نے ضلع کونسل سے چوک گھنٹہ گھر تک پیدل امن مارچ کیا ریلی دوگھنٹے تک جاری رہی اور خواتیں مسلسل نعرہ تکبیر،نعرہ رسالت، نعرہ حیدری ، نعرہ غوثیہ ،حضرت امام بری سرکار ،حضرت داتا صاحب سرکار،حضرت سلطان باہو سرکار،حضرت چادر والی سرکار اور تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے نعرے لگاتی رہیں۔ اگر ایک طرف گو طالبان گو کے نعرے لگ رہے تھے تو دوسری طرف اللہ اللہ اور لبیک یا رسول اللہ کی صدائیں فضاء میں گونج رہی تھیں ۔ریلی جب چوک گھنٹہ گھر پہنچی تو وہاں کچھ دیر کیلئے قیام کیا اس دوران محترمہ سمیرا رفاقت صاحبہ نے ایک تاریخ ساز اور ولولہ انگیزتقریر کی انہوں نے آیات قرآنی سے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
|
|
" تو اس سے بڑھ کرظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی آیتوں کوجھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے"۔
|
|
انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات اور قضائے الٰہی کو بدلنے والے اور قرآن وحدیث کا انکار کرنے والے بے دین ہیںانھوں نے سورة بقرہ کی آیت نمبر 11،12 سنائی کہ
|
|
" اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین (ملک )میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کر نے والے ہیں ۔بے شک یہی فساد کرنے والے ہیں مگر سمجھتے نہیں"
|
|
انہوں نے کہا کہ حدیث کی رو سے کسی بھی صحیح مسلمان پر شرک کا فتویٰ لگانے والا خود شرک کا حقدار ہے۔اور کسی بھی مسلمان کو محض اس وجہ سے مشرک قرار دیدیاجائے کہ وہ یا رسول اللہ کہتا ہے یااولیاء اللہ کی تعظیم کرتا ہے دین سے لاعلمی اور جہالت کا نتیجہ ہے۔ایسا کہنے والوں کا دین اسلام سے حقیقت میں کوئی واسطہ نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اولیائ اللہ کے مزارات اور درباروں کی بے حرمتی کرنا( جہاں دن رات ذکر اللہ اور درودسلام کی صدائیں بلند ہوں، سینکڑوں ،ہزاروں بھوکوں کے پیٹ بھرتے ہوں انہیں شرک کے اڈے قرار دینے والے اور ایک ولی اللہ کے جسم انور کو دنیا سے پردہ کرجانے کے بعد درخت سے اُلٹا لٹکا کر اُنکے اعضاء کاٹنے والے(سوات کا واقعہ) کس منہ سے اسلام کی بات کرتے ہیں ۔اگر وہ سچائی اور دیانتداری کے ساتھ اپنامحاسبہ کریں تو ہر گز مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کریں گے۔
|