|
|
یقیناً آپ بچ سکتے ہیں
|
|
آفات و بلیات، لاعلاج امراض، فتنہ وفساد، قتل وغارت،حادثاتی اموات ، آتشزدگی کے واقعات اور زلزلوں سے (انشاء اللہ)
|
|
جھوٹ، بہتان،رزقِ حرام اور اولیاء اللہ کی گستاخی سے
|
اگر پرہیزکریں :
|
|
|
|
روزانہ کسی بھی وقت باوضو باادب روضہ رسول ﷺ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو کر 20، 20 مرتبہ
|
اورنذرانے پیش کریں :
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
اور صبح وشام یہ دعائیں پڑھیں
|
|
|
|
اول آخر درودشریف ، 3 مرتبہ قل شریف اور ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھنی ہے۔
|
|
قل شریف پڑھنے سے بندہ بد اثرات، آفات و بلیات اور طوفان کے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ صبح و شام آیت الکرسی پڑھنے سے انسان شیطان کے شر سے اور چوری و دیگر نقصانات سے بچ جاتا ہے۔
|
|
|
(1) صبح سے شام تک شیطان سے حفاظت
|
|
|
|
اَعُوْذُ بِا اللّٰہِ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ( 1 مرتبہ صبح وشام)
|
|
جو شخص یہ دعا صبح کے وقت پڑھے گا تو وہ صبح سے شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھے گا تو شام سے لے کر صبح تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا۔
|
|
|
(2) دعا برائے حفاظت دین، جان ومال واہل وعیال
|
|
|
|
بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ وَنَفْسِیْ وَ وَلَدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ( 3 مرتبہ صبح وشام)
|
|
ایک صحابیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے اہل وعیال اور مال کے بارے نقصان کا ڈر رہتا ہے۔
آپ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کی صبح و شام یہ دعاپڑھ لیا کر اس سے تیرا سارا خوف ختم ہو جائے گا۔ (کنزل الاعمال)
|
|
|
|
بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اِسْمِہٖ شَیْئیء’‘ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْم
(3 مرتبہ صبح وشام)
|
|
حدیث مبارکہ میں اس دعا کی بڑی فضیلت آئی ہے اس کا پڑھنے والا اچانک آفات اور بھیانک بیماریوں سے بچا رہے گا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ فرماتے ہیں
کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا! جو بندہ ہر روز صبح اور شام کو یہ دعا تین تین مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اسے ہرگز کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
|
|
|
|
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاٰتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقْ ( 3 مرتبہ صبح وشام)
|
|
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا! ’’جو صبح ہوتے ہی تین مرتبہ اور شام ہوتے ہی تین پرتبہ یہ دعا پڑھ لے تو کسی
( زہریلی چیز ) کے ڈسنے سے اس رات اس کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور نہ ہی اس دن میں اس کو کوئی نقصان ہوگا‘‘۔ (رواہ ابن حبان)
|
|