لاثانی ویلفیئر فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ)انٹرنیشنل عرصہ دراز سے ملک کے طول وارض میں فلاح معاشرہ اوراصلاح احوال کے لیے شب وروز کوشاں ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ مادی ترقی اورمعاشی مسائل نے باہمی جذبہ محبت وایثار کو کسی حدتک کم کر دیا ہے۔ دین سے دوری کی بناء پر عقائد کمزور پڑ گئے ہیں ۔ہمارے دل اللہ اوراسکے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی محبت سے آباد نہیں ہیں اسی لیے ہم روحانی وقلبی سکون کی عظیم دولت سے محروم ہیں ۔ روحانی و قلبی سکون صرف اللہ کی محبت میں پوشیدہ ہے ۔اللہ کی محبت کے حصول کا واحد راستہ جو اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرمایا ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت وعشق ہے ۔اظہار محبت کے کئی انداز اورطریقے ہیں۔ جیسا مزاج اورتوجہ ہوتی ہے دل ودماغ ویسا ہی محبت کے اظہار راستہ چن لیتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے محبوب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تعریف میں آیا کریمہ کے ذریعے سب سے پہلے نعت کی بنیاد رکھی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو اپنا محبوب و ممدوح کہا ہے اورقرآن پاک میں طرح طرح سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی ہے ۔بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر درود سلام بھیجنے کا حکم دے کر گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی مدح وثنا کو مسلمانوں پر فرض کر دیا ہے ۔ ایسے میں نعت گوئی محض شاعی نہیں رہتی بلکہ ارشاد باری تعالیٰ کی تعمیل اورعبدیت کی تکمیل قرار پائی ہے۔ نعت گوئی کابنیادی مقصد حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت کا اظہار ہے۔ کسی بھی مسلمان کا ایمان اس وت تک مکمل نہیں ہو تا جب تک وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے والہانہ محبت نہ کرے جب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا یہ اعزاز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہو تا ہے ۔ہر شحض کو یہ مقام حاصل نہیں۔
نعت کے ذریعے حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اورخراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تعلیمات پر مکمل طور پر ہی عمل کیا جائے ۔نعت گوئی کا مبارک سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ولادت سے بہت پہلے شروع ہو گیا تھا پہلی امتیں بھی اپنی الہامی کتب اور انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے واقف تھیں ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے نعت گوئی کی خود حوصلہ افزائی فرمائی ہے ۔اور اس سے رد باطل کا کام بہت خوبصورتی سے لیا ۔ایسی نعت عہد رسالت مآبصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے تمام شعراء نے لکھی جن میں حسا ن بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔یوں اصحابہ اکرام نے رسالت ماب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی شان میں اشعار لکھ کر اپنی عشق ومحبت کا اظہار کیا ۔اشعار لکھ کر اپنی عشق ومحبت کا اظہار کیا ۔اشعار کے ذریعے خیالات کے اظہار کا انداز بہت قدیم ہے۔حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جہاں نعت نویسی کا اعزاز حاصل ہواوہاں نعت خوانی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ مرشد اکمل ،قائدوروحانی انقلاب صوفی مسعود احمدصدیقی صاحب لاثانی سرکار کی دورحاضر میں معیاری نعت نویسی نعت خوانی کے لیے عمل کاوشوں نے روح کو بیدار کر دیا ہے ۔نعتیہ شاعری اپنی ارتقائی شاعری اپنی ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لاثانی نعت وکلام کونسل کے قیام کا مقصد فروغ نعت نویسی وخوانی سے لیکر فروغ نعتیہ ادب اور شعراء کی حوصلہ افزائی ہے۔ لاثانی نعت وکلام کونسل کے قیام کا مقصد دنیا عالم کے سامنے ان موزوا سرار کو لاناہے جو ذوق وفکر میں عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی روح کو بیدا رکردیں اور اولیاء اللہ کی وابستگی سے درس عشق ومحبت کے پوشیدہ خزینے جو فکرونظر میں انقلاب پیدا کر دیتے ہیں انکے حصول کے لیے راہنمائی بہم پہنچانا۔
نعت سنت الہی ہے جس کی اتباع میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کئے جاتے ہیں ۔نعت وہ اظہار عقیدت ہے جس سے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے قلبی محبت اورایمانی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ نعت سب سے پہلے خالق اکبر نے قرآن کریم کی صورت میں کہی ۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اس ساری کائنات کی تخلیق کا مقصد۔نبی کریمصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ظہور پر نور ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت سرمایہ اہل ایمان ہے ،محبت میں اظہار عقیدت ،بیان حسن مبالغہ وصف تحسین سیر ت اورتذکرہ حلیج فطری امر ہے ۔محبت اوراظہار محبت کی انہی حقیقتوں کی نشاندہی رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے اسار شاد فرمائی ۔
’’تم میں سے کسی ایک کا بھی ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ماں باپ اپنی اولاد اور سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرنے والا نہ ہو۔‘‘ نعت عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی تعریف کرنا لیکن اصطلاحاً یہ لفظ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تعریف و توصیف کے لیے مخصوص ہو چکا ہے ۔بعض صوفیا ء کیا قوال سے نعت کا معنی شان بھی آتا ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت رکھنا آ پصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ذکر کرنا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر درود سلام بھیجنا آپ کی سیرت کی جستجو کرنا آ پ کے میلانات اپنا نا،آپ کی حیات سعید کو سمجھنا ،آپ کی دعوت کر یمانہ کو سننا،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے علمی اوردینی سرمایہ کا اگلی نسلوں کیطرف منتقل کرنا تقاضائے شریعت ہے یہ سب کچھ نعت کا موضوع ہے ۔ اس لحاظ سے نعت کہنا ، نعت سننا ،نعت پسند کر نا شریعت مطہرہ کا اولین مقصد ہے ۔قرآن مجید نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ایک انمٹ اورلازوال نقش ہے ،کتاب وسنت کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کا ہر انسان حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی نعت میں دھل جائے۔ نعت کا مدار چونکہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ذات مسعود ہے اس اعتبار سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ذات سے لیکر صفات تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے افکار سے لیکر اعمال تک زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جو نعت کا موضوع نہیں سکتا ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نعتیہ شوق ہی تھاکہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زندگی کے لمحہ لمحہ کو انہوں نے شعروادب میں محفوظ کر لیا ۔اوریہ یہی ان کا وہ ورثہ ہے جو قوموں کے عروج کا سبب بنا اوربجاطور پر انسانیت نے جلاپائی اورقیامت تک یہ سلسلہ انسانیت کی تقدیر بدلتا رہے گا ۔ہر وہ شعر نعت ہے جس کا تاثر ہمیں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ذات گرامی کے قریب لائے۔ نعت نویسی اورنعت گوئی معمولی کرم نہیں اس کے لیے ادب کا قرینہ چاہے ،یہ عرش سے نازک مقام ہے ،احترام رسالت کے تقاضے نعت کو محبتوں کاگلدستہ اورنجات کا وسیلہ بنا دیتے ہیں ۔ یہ شاعری کی معراج ہے کہ جس کے لیے دل کا گداز،نظر کی طہارت اورلب ولہجہ کی زیبائی درکار ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق اورحبیب مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی نظر رحمت سے ہی یہ بلند مقام حاصل ہوتاہے ۔ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایامومن شخص کفار کے ساتھ اپنی تلوار اوراپنی زبان سے جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم کفار کو شعرا اسی طرح مارے ہوجس طرح تیر مار اجاتاہے ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’جب تک حسان رحمتہ اللہ علیہ میری طرف سے فخریامدافعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کر تا ہے ،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفار کی ہجوتہہ کر مسلمانوں کو شفا دی اور خود شفا پائی ۔
دور حاضر اس بات کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ نعتیہ شاعری صرف رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی اوصاف ظاہری تک محدود ہو کر رہ گئی۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ذات بابرکات میں پوشیدہ اسرار اورعلم ومعرفت کو صرف اولیاء اللہ کی ارادت وصحبت سے ہی مانا جاسکتا ہے۔ ظاہری علم انہی مشاہدات اورنظریات کو تحقیق اورغوروفکر سے باقاعدہ ولم وادب کا حصہ بنا نا ہے۔ اولیاء اللہ کے باطنی علوم سے حاصل شدہ خزینوں سے علم ظاہری کی شرع کو تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ کہ کامل اولیاء اللہ کے ارشادات کو علم ظاہر سے پرکھنا چاہیے۔ باباغلام فریدؒ ،وارث شاہؒ ،بابا بلھے شاہؒ ،شاہ عبدالطیف بھٹائی،سچل سرمست ،سلطان باہو اورعلامہ اقبالؒ ودیگر جیسے شعرابابان علم ومعرفت کے بندآج ہم اس پائے کے شعراء سے محروم کیوں ہیں ؟وین کے پیغام ہدایت کو شاعری اوربیانی دونوں زاویوں سے صحت مندبنانے کے لئے جس مئے حیات کے ضرورت ہے وہ آج بھی اولیاء اللہ اورفقرا کی محبت بابرکت میں بحر علم و معرفت تقسیم ہو رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فقراء سے منسلک افراد اورظاہری علم سے بے نیاز عاشقان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عشق ومستی میں ڈوبے پوشیدہ اسرار کو شاعرانہ انداز میں بیان کر رہے ہیں ۔ جید شعراء بھی ان کے شعر کے وتواز ،صحت اور قوائد کے معترف ہیں۔ نعت شاعری کی تمام اصناف میں کہی جا سکتی ہے ،قصیدہ ،مثنویٰ ،مثلت ،مجمنس،مسدس،قطعہ،رباعی،نظم معرا،غزل جس میں صنف میں ذکر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہو ا سے نعت ہی کہا جا ئے گا۔الحمداللہ یہ دور نعت کا دور ہے ذکر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کیا جا لے،یوں توہر زمانے کی ضرورت ہیں ۔لیکن ان کی جتنی ضروت آج ہے ،شاید اس سے پہلے اتنی کبھی بھی نہ ہو ۔کیونکہ مادیت کی تاریکی نے بڑی بڑی عقلوں اور سمجھوں کو اپنی لپٹ میں لے رکھا ہے انسانیت کو اس عذاب سے نجادلانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ذکر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو عام کہا جائے۔
لاثانی نعت و کلام کونسل کا دائرہ کار ’’لاثانی نعت و کلام کونسل علاقائی سطح پر فروغ نعت سے بیداری عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے معروف شعراء کے منتخب کلام کو مختلف محافل و مذہبی تقاریب کی صورت خوش الہان نعت خوان حضرات کے ذریعے عام کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔ ضلع اور صوبائی سطح پر فروغ فن نعت کے لیے نعت خواں کی تربیت، شعراء کے نعتیہ مجموعہ جات کی اشاعت اور مشاعروں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ نعتیہ کلام کے ذریعے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، اصلاح معاشرہ کے جذبہ کو بیدار کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔‘‘
لاثانی نعت و کلام کونسل کی انتظامیہ
سیکرٹری شعبہ نعت نویسی: جناب پیر الطاف حسین صاحب نقشبندی
سیکرٹری شعبہ نعت گوئی: جناب غلام رسول صاحب نقشبندی
سیکرٹری شعبہ تربیت: جناب محمد اکمل صاحب، جناب ڈاکٹر محمد انور صاحب نقشبندی
سیکرٹری شعبہ تعلقات عامہ: جناب محمد رمضان صاحب نقشبندی
اغراض و مقاصد
* فروغ نعت کے لیے محافل نعت و ذکر کا انعقاد
* مقابلہ حسن نعت کا انعقاد
* نعتیہ مشاعروں کا انعقاد
* فن نعت خوانی کی تربیتی نشستتوں کا انعقاد
* نعت آڈیو اور وڈیو لائبریری کا قیام
* نعتیہ مجموعہ جات کی اشاعت
* نعت نویسی و نعت خوانی کی حوصلہ افزائی
* فروغ نعت ادب میں شعراء کی حوصلہ افزائی
***